Skip Navigation | Accessibility

information, advice, guidance and learning materials in community languages

پوسٹ نيٹل ڈپريشن
Post Natal Depression

اپنی مددآپ کے ليۓرھنمائی

"ميرا زيادہ تر وقت آنسوؤں ميں گزرتا ھے ميں منتظم نھيں ھو سکتی ،ان کاموں کی فہرست جو مجھے کرنے کی ضرورت ھے بہت لمبی ھے ميں ایک ماں کی حيثيت سے خود کو ناکام محسوس کرتی ھوں"۔

"مجھے يوں لگتا ھے جيسے ميں کوئی فيصلہ نھيں کر سکتی ميرا ذھن بے يقينی کی سوچوں ميں الجھا ھوا ھے اور ميں محسوس کرتی ھوں جيسے ھر وقت ھر کسی پر ٹوٹ پڑتی ھوں۔ مجھے خوشی محسوس کرنا چاھيۓ ليکن ميں صرف مایوسی ھی محسوس کرتی ھوں"۔

"بچہ چيختا رھتا ھے اور ميں اسے سکون نھيں پہنچا سکتی ھوں ميں نا کامی محسوس کرتی ھوں ليکن مجھے بہت غصہ بھی آتا ھے تب ميں ناقابل برداشت شرمندگی محسوس کرتی ھوں يہ کسی کا قصور نھيں یہ ميرا ھی قصور ھے"

"مجھےيوں محسوس ھوتا ھے جيسے ميں اپناسارا اعتماد کھوچکی ھوں ميں خوفناک دکھائی ديتی ھوں اور ميں خوفناک محسوس بھی کرتی ھوں"۔

يہ گائيڈ ميری کس طرح مدد کر ے گی

پوسٹ نيٹل ڈپريشن ايک تکليف دہ صورتحال ھے دس ميں سے کم از کم ايک عورت

اپنے بچے کی پيدائش کے بعد اس صورت سے گزرتی ھے۔

اوپر دی گئ مثاليں ان عورتوں کی مخصوص سوچوں اور احساسات کے بارے ميں ھيں جو پوسٹ نيٹل ڈپريشن کاشکار ھوتی ھيں۔

یہ کتابچہ پوسٹ نيٹل ڈپريشن زدہ عورتوں ان کے دوستوں اور خاندان والوں کے

ليۓھے۔

اس کتابچےکا مقصد یہ ھے کہ:

  • آپ کو یہ جاننے ميں مدد کرنا کہ کيا آپ پوسٹ نيٹل ڈپريشن کا شکار ھو رھيں ھيں
  • يہ واضع کرنا کہ پوسٹ نيٹل ڈپريشن کی کیا وجوحات ھيں
  • آپ کو آپ کی اپنی مددکے ليۓ بہترين طريقہ فراھم کرنے ميں مدد کرنا
  • اور کچھ دوسری جگہيں بھی مدد يا رھنمائی حاصل کرنے کے ليۓ تجويز کرنا

ميں اتنی ڈپريس ھو جائوں کہ اگر مجھے پڑھنے ميں بھی مشکل ھو جائے تو کیا کروں؟

اگر آپ بہت ڈپريس محسوس کر رھی ھوں حتی کہ آپ یہ کتابچہ ھی پڑھ رھی ھوں

تو آپ کے ليۓ متوجہ ھونا بہت مشکل ھو گا شايد یہ آپ کو بہت لمبا اور مشکل دکھائی دے ؟ براۓ مہربانی پريشان نہ ھوں يہاں بہت زيادہ معلومات موجود ھيں اسے معمولی سمجھيں اگر آپ کو کچھ سمجھنيں ميں مشکل پيش آۓ تو اس کے بارے ميں اپنے ماھر صحت يا جی۔ پی (Gp) سے بات چيت کر سکتیں ھيں اور اگر آپ بہتر محسوس کرئيں تو ان سے دوبارہ مل سکتیں ھيں۔ اگر ايک معالج (ڈاکڑ)آپ کو یہ کتابچہ دے تو شايد یہ بھی آپ کے ليۓ مدد گار ثابت ھو اگر آپ لکھا ھوا یہ کتابچہ اپنے معالج کی مدد سے پڑھيں۔

پوسٹ نيٹل ڈپريشن کیاھے؟

پوسٹ نيٹل ڈپريشن (مختصرّا پی اين ڈی)ڈپريشن کی ايک قسم ھے یہ اس وقت ھوتاھے جب بچہ پيدا ھو بعض اوقات ڈپريشن دوران حمل شروع ھوسکتا ھے ليکن اسے پوسٹ نيٹل ڈپريشن اس وقت کہا جاتاھے جب یہ بچہ پيداھونے کے بعد بھی جاری رھے۔

پوسٹ نیٹل ڈپريشن بہت عام ھے اور ھم جانتے ھيں کہ ھر سو عورتوں ميں سے دس سے پندرہ عورتيں جو بچہ پيدا کرتی ھيں اسکا شکار ھوتی ھيں بالکل صحيح تعداد شايد زیادہ ھو کیونکہ بہت سی عورتيں مدد تلاش کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتيں اور نہ ھی اس صورتحال ميں دوسروں کو اپنے احساسات کے متعلق بتاتیں ھيں۔

پوسٹ نيٹل ڈپريشن "عام"ڈپريشن سے کس طرح مختلف ھے؟

پی اين ڈی کی علامات عام ڈپريشن کی طرح ھيں اس سے عورتوں کا رويہ خراب ھوتا ھے اور ان کی دلچسپی ان چيزوں ميں ختم ھونا شروع ھو جاتی ھے جو عام طور پر صحيح ھوتیں ھيں فرق صرف یہ ھےکہ اس طرح کے احساسات عام طور پر بچے کی پيدائش کے پہلے تين مہينوں کے دوران شروع ھوتے ھيں یہ بھی ممکن ھے کہ پوسٹ نيٹل ڈپريشن کچھ دير بعد شروع ھو ليکن اگر علامات بچے کی پيدائش کے ايک سال بعد عورت ميں دکھائی ديں تو اس کو ھم پوسٹ نيٹل ڈپريشن کہيں گیں۔

جيساکہ پی اين ڈی عام ڈپريشن کی طرح ھے آپ کو ھمارا کتابچہ ملے گا "ڈپريشن اپنی مدد آپ کے ليۓ رھنمائی " اور "ڈپريشن ،ايک معلوماتی تک کتابچہ" جو آپ کے ليۓ مدد گار ثابت ھو گابراۓ مہربانی اپنے معالج یا جی پی سے ان کے بارے ميں پوچھيں

ایک اچھی خبر یہ ھے کہ ڈپريشن کی دوسری قسموں کی طرح پوسٹ نيٹل ڈپريشن علاج کے بعد اچھا ردعمل ظاھر کرتا ھے اور زيادہ تر عورتيں بالکل صحت ياب ھو جاتیں ھيں۔

کيایہاں مزيد پوسٹ نيٹل مسائل ھيں جن کا عورتوں کو سامناکرنا پڑتا ھے؟

یہاں دو اور تکليف دہ جزباتی صورتيں ھيں جنکا عورتيں بچہ پيدا ھونے کے بعد شکار ھوتیں ھيں ۔

بليو بے بی

یہ پہلی علامت بہت زیادہ عام ھے اور اسے "بے بی بليوز" کہتے ھيں یہ ڈپريشن کی ايک ہلکی سی قسم ھے اور دس ميں سے آٹھ ماؤں ميں ان کے بچوں کی پيدائش کے پہلے چند دنوں ميں ظاھر ھوتی ھے عام طور پر جب مائيں "بے بی بليوز" سے اثر انداز ھوتیں ھيں تو بہت زیادہ جزباتی محسوس کرتیں ھيں اور بغير کسی وجہ کے رونا شروع کر ديتیں ھيں نئ مائيں عام طورپر پريشانی تناؤ اور تھکا ھوا محسوس کرتی ھيں اور شايد سونے ميں بھی مشکل محسوس کرتی ھيں۔

ڈاکڑوں کاخیال ھے کہ پيدائش کے دوران اچانک ‏غدودوں کے اخراج ميں تبديلیاں بے بی بليوز کا سبب ھو سکتیں ھيں ليکن کچھ اور وجوہات بھی ھو سکتی ھيں جيسے کہ پيدائش کادرد اور یہ انقلاب کہ ايک نیا بچہ بھی آ سکتا ھے یہ وہ وقت ھے جب آپ کو اپنی طاقت کی بحالی کے ليۓ بہت زیادہ آرام کی ضرورت ھوتی ھے ليکن ايسا بہت کم ھوتاھے کہ آپ اسے بحال کر پائيں۔

بلیوز عام طور پر ایک يا دو دن ميں ختم ھو جاتے ھيں اور یہ اتنی جلدی ھی ختم ھوتے ھيں جتنی جلدی یہ آۓ تھے بليوز متعلقہ ڈپريشن کی وجہ نہيں ھيں جب تک کہ احساسات مسلسل جاری نہ رھيں اور خطرناک حد تک نہ پھنچ جائيں ایسی صورت ميں یہ پوسٹ نيٹل ڈپريشن کی شروعات کرسکتے ھيں۔

پیورپیرل سا‏ئی کوسز

دوسرا مسئلہ جو بعض اوقات عورتوں کو پیدائش کے بعد درپيش ھے اتنا عام نہيں ھے اور اسے پیورپيرل سائی کو سز کہتے ھيں یہ ھر ھزار ميں سے ایک نئ ماں کو پيش آتا ھے اور یہ پوسٹ نيٹل ڈپريشن سے زیادہ خطرناک ھے یہ مسئلہ عام طور پر پيدائش کے بعد پہلے دو ھفتوں کے دوران اچانک بہت خطرناک اور بے چين موڈ اور رويے کے ساتھ شروع ھو جاتا ھے پوسٹ پارٹم سائی کوسز زدہ عورتيں بہت زیادہ حد تک متحرک اور پريشان ھو سکتیں ھيں اور اکثراپنے اور اپنے بچے کے بارے میں غير معمولی اور انتشار پيدا کرنے والے خیالات رکھتيں ھيں۔

یہ کتابچہ اس مسئلے والی عورتوں کے ليۓ نہيں ھے بلکہ انہيں کسی ماھر نفسیات کی خاص مدد کی ضرورت ھے اور انھيں ایک دفعہ اپنے ڈاکڑ سے بھی مدد کے ليۓ پوچھنا چاھيۓ عام طريقہ علاج ميں ادويات کے علاوہ ماں اور بچے کو اس یونٹ ميں کچھ دير رکھا جاتا ھے اگرچہ پوسٹ پارٹم سائی کوسز خوفناک ھو سکتی ھے اور ایک نئ ماں اور اس کی فیملی کے ليۓ پريشانی کا باعث ھو سکتی ھے ليکن یہ یاد رکھنا بہت اھم ھے کہ اس کا علاج بہت با اثر ھے اور زیادہ تر مائیں اس سے مکمل صحت یاب ھوتی ھيں۔

پوسٹ نيٹل ڈپريشن کی کیا علامات ھيں؟

عورتيں بہت زیادہ علامات بیان کرتیں ھيں جن ميں سے زیادہ تر کو نيچے لکھا گیا ھے یہ علامات اس وقت بہت زیادہ تکليف دہ محسوس ھو سکتیں ھيں جب ایک نیا بچہ بہت زیادہ توجہ اور حفاظت کی ضرورت محسوس کرتا ھے۔

اگر آپ پوسٹ نيٹل ڈپريشن کاشکار ھيں تو مندرجہ زیل کچھ علامات يا نشانیاں ھيں جو آپ ميں ھو سکتیں ھيں۔

جزبات اور احساسات

  • غمگين ،بے چين اور مايوسی کا احساس
  • بہت زیادہ رونا یا یہ محسوس کرنا کہ رو ھی نہيں سکتی
  • بے کار محسوس کرنا
  • رويے کا کچھ پتا نہ چلنا
  • شرمندگی کا احساس
  • دلچسپی ميں کمی
  • خوشی /لطف ميں کمی
  • پريشانی يا خوف اور تشويش محسوس کرنا
  • تکليف اور ناراضگی کا احساس
  • اپنے بچے کے ليۓ جيسا محسوس کرنا چاھيۓ ویسا محسوس نہ کرنا

طبعی اور جسمانی علامات

  • طاقت ميں کمی يا کمزوری محسوس کرنا
  • نيند صحيح نہ آنا
  • بہت زيادہ سستی يا
  • بہت تيزی،ھيجان يا آرام نہ کرنا
  • جنسی دلچسپی ميں کمی
  • بھوک ميں تبديلی۔ بہت زيادہ کھانا يا زيادہ نہ کھانا

خیالات

جب لوگ پريشان ھو تے ھیں تو وہ منفی، افسردہ انداز ميں سو چنے ميں کافی ماھر ھو جاتے ھيں۔

  • اپنے آپ پر تنقيد کرنا_ "ميں ماں کے لحاظ سے ناکارہ ھوں"ميں ابتر دکھائی ديتی ھوں"ميں اس کتابچے کو سمجھ نہيں سکتی ھوں ميں ضرور بے وقوف ھوں"
  • پريشانی _ "بچے کو صحيح خوراک نہيں دی جارھی ھے"
  • فوری نتيجہ نکالنا _ "یہ ميری غلطی ھے"
  • برائی کی توقع کرنا _ "ھر چيز غلط جارھی ھے" چيزيں کبھی بہتر نہيں ھو سکتی ھيں"
  • نااميد سو چيں _ چيزيں نا اميد ھيں بعض اوقات ميں سوچتی ھوں ھر کوئی ميرے بغير بہتر ھو جاۓ گا
  • دوسروں کے بارے ميں سوچنا _ "ھر کوئی اپنا کام نبٹا رھا ھے میری کسی کو فکر نہيں ھے "
  • اوردنیا _ " ايک بچے کے ليۓ کتنی خوفناک جگہ ھے " ۔ ۔ ۔

سوچ _ بھی ڈپريشن کے ذريعے دوسرے طريقوں سے اثر انداز ھو سکتی ھے

توجہ ميں کمی

قوت ارادی ميں کمی

الجھاؤ ،بے ترتيب سوچيں

رویہ

  • لوگوں سے گريز کرنا اور باھر نہ جانا
  • پر لطف کاموں کو نہ کرنا
  • روزمرہ کے کاموں کو نہ کرنا _ يا بہت زیادہ کرنے کی کو شش کرنا
  • فيصلے ملتوی کرنا
  • زیادہ بحث کرنا، چلانا ، اور خود پر قابو نہ پا سکنا

اگر آپ نے بہت سے ڈبوں پر نشان لگایاھے اور پچھلے دو ہفتوں یا اس سے بھی زیادہ تر وقت آپ اسے محسوس کرتے رھيں ھيں تو اس کا مطلب ھے کہ آپ کسی قسم کے ڈپريشن کا شکار ھيں۔

اگر اس طرح بچہ پیدا ھونے کے چند ہفتوں یا مہينوں ميں واقع ھو تو يہ کہا جا سکتا ھے کہ آپ ایک قسم کے پوسٹ نيٹل ڈپريشن کا شکار ھيں۔

کیا مجھے مدد کے ليۓ کہنا چاھيۓ؟

اگر آپ پوسٹ نیٹل ڈپريشن کا شکار ھيں تو یہ اھم ھے کہ آپ اسے پہچانيں اور مدد تلاش کريں

لوگ عام طور پر پوسٹ نیٹل ڈپريشن کو پہچان نھيں سکے یہ ایک بہت بڑی تبديلی کے وقت ھوتا ھے اور نئ مائيں اکثر نہيں جانتی ھيں کہ مناسب کیا ھے یا کیا توقع کی جاسکتی ھے مسئلہ آہستہ آہستہ آتا ھے اور اکثر مائيں یہ سو چتیں ھيں کہ وہ اس سے نبٹ نہيں سکتیں ھيں بغير یہ جانے کہ وہ پوسٹ نیٹل ڈپريشن کا شکار ھو رھیں ھيں۔

بہت سی عورتيں جو پوسٹ نیٹل ڈپريشن کا شکار ھوتیں ھيں تو شرم محسوس کرتیں ھيں اور اپنی علامات کو دوسروں سے چھپاتی ھيں ۔

جب آپ کو شروع شروع ميں پتا چلے کہ آپ پوسٹ نیٹل ڈپريشن کا شکار ھيں تو

یہاں بہت سے علاج ھيں اور وہ اقدام ھيں جن کے ذريعے آپ اپنی مدد آپ کر سکتیں ھيں۔

یاد رکھيے، پوسٹ نیٹل ڈپريشن بہت عام ھے اور شاید پانچ عورتوں ميں سے ایک پر اثرانداز ھوتا ھے پس براۓ مہربانی اپنے خاندان معالج یا ڈاکٹر سے بات کريں اور مدد کے ليۓ پوچھيں۔

پوسٹ نیٹل ڈپريشن ھونے کا خطرہ کسے ھو سکتا ھے ؟

کوئی بھی جن کا ایک بچہ ھے وہ پوسٹ نیٹل ڈپريشن کا شکار ھو سکتی ھيں تاھم یہاں کچھ اقدام ھيں جو یہ ظاھر کرتے ھيں کہ آپ زیادہ خطرے ميں ھيں

ان ميں شامل ھيں :

  • اگر آپ کو پہلے بھی ڈپريشن کی شکايت ھو
  • اگر بچہ پيدا کرنا آپ کے ليۓ بہت مشکل اور تکلیف دہ تھا
  • اگر آپ کو اپنے تعلقات ميں مسائل ھوں
  • اگر آپ اپنی زندگی ميں دوسرے مشکل واقعات سےگزر رھی ھوں
  • اگر آپ معاشرتی طور پر اکيلی ھيں، خاندان اور دوستوں کے بغير جو آپ کی مدد کر سکتے ھيں
  • اگر آپ کی اپنی ماں آپ کی مدد کے ليۓ یہاں موجود نہيں ھيں

تاھم اس کا مطلب یہ نہيں کہ ھر کوئی جو اس طرح کی مشکلات سے گزرتے ھيں ان ميں پوسٹ نيٹل ڈپريشن موجود ھو

پوسٹ نیٹل ڈپريشن کی کیا وجوہات ھيں؟

بچے کا پيدا ھونا ایک بہت بڑی تبديلی ھے جس ميں نئ مائيں حیاتیاتی، طبيعاتی ، جزباتی اور معاشرتی تبديليوں کاتجربہ کرتیں ھيں یہ بھی کہا جا سکتا ھے کہ ان سب چيزوں کا آميزہ پوسٹ نیٹل ڈپريشن کی وجہ ھے زندگی کے دوسرے پريشان کن لمحات بھی بعض اوقات اس ميں نمایاں کردار ادا کرتے ھيں۔

حیاتیاتی تبديلیاں

آپ کے جسم ميں غدودوں کی تبديلی کی وجہ سے بچے کی پيدائش ھوتی ھے پوسٹ نیٹل ڈپريشن شاید ان تبدیليوں کی وجہ سے ھے ليکن جبکہ یہ تصوير کاحصہ ھے ثبوت یہ بتاتے ھيں کہ صرف غدود ھی اس کی وجہ نہيں ھے بلکہ آپ کے انفرادی اور معاشرتی حالات بھی اسی طرح اھم ھيں ۔

تاھم ، ڈپريشن روکنے والے یا دوسرے معالج بھی مدد گار ھو سکتے ھيں اپنے ڈاکٹر سے وضاحت کے ليۓ اس کے بارے ميں پوچھيں۔

طبعی تبدیلیاں

بچے کی پيدائش سے کمزوری محسوس ھو سکتی ھے اور بعض اوقات پیدائش طبعی مسائل بھی پيدا کر سکتی ھے مثال کے طور پر بچہ پیدا کرنے کے ليۓ آپريشن سے ھونے والی درد اور اس سے صحت یاب ھونا اتنا آسان نہيں ھے نومولود کی دیکھ بھال آپ کے ليۓ آرام کرنا مشکل کر دےگی اور آپ یہ ديکھيں گیں کہ آپ صحيح طرح سو بھی نہيں سکتیں ھيں نئے بچے کی پیدائش پر آپ کے بڑے بچے آپ سے زیادہ توجہ مانگنےکا ردعمل ظاھر کرسکتے ھيں اور یہ آپ کو مزید تھکا سکتا ھے۔

شاید آپ کی بھوک ميں کمی آۓ اور آپ صحيح طرح کھانہ سکيں جب ايسا ھوتو طبعی تبدیلیاں آسانی سے آ سکتيں ھيں۔

کچھ عورتيں بچے کی پیدائش کے بعد غير یقينی محسوس کرتیں ھيں اور بھدّا محسوس کرتیں ھيں کیونکہ ان کے جسم کی بناوٹ ميں تبديلی آتی ھے اور ان کے پاس اپنی دیکھ بھال کاوقت نہيں ھوتا ھے اسی طرح بہت سی عورتيں جو پوسٹ نیٹل ڈپريشن کا شکار ھوتیں ھيں ڈپريشن کی وجہ سے اپنی ناکامی جو وہ محسوس کرتی ھيں ان کو چھپانے کے ليۓ اپنے آپ پر توجہ ديتیں ھيں اور اپنے بچے پر بھی توجہ ديتیں ھيں تا کہ وہ اچھا دکھائی دے ظاھری اچھادکھائی دينا اور مسکرانا جبکہ آپ ایسا محسوس نہيں کرتيں تو یہ بھی طبعی طور پر کمزور کرتا ھے۔

جزباتی تبديلیاں

اکثرعورتيں ان احساسات کا تجربہ نہيں رکھتيں ھيں جن کے متعلق وہ اپنے بچے کی پیدائش کے بعد توقع کرتيں ھيں جب وہ پہلی دفعہ اپنے بچے کو اٹھاتیں ھيں تو بہت سی عورتيں ماں کے غرق کر دینے والے پیار کو محسوس نہيں کر پاتيں بلکہ وہ خود کو تھکا ھوا اور کچھ غير متعلقہ سا محسوس کرتی ھيں۔

یہ صورتحال بالکل ٹھيک ھے کچھ ماؤں کو پہلی ھی نظر ميں اپنے بچے سے محبت ھو جاتی ھے ليکن دوسری ماؤں کو اپنے بچے سے آہستہ آہستہ محبت ھوتی ھے

اھم بات یہ ھے کہ اگر بچے کی پيدائش آپ کی توقعات کے مطابق نہ ھو تو پريشان ھونے یا مایوس ھونے کی ضرورت نہيں ھے اور یہ حقيقت ھے کہ بہت سی عورتيں کہتیں ھيں کہ وہ بچے کی پيدائش کے بعد خود کو زيادہ جزباتی محسوس کرتیں ھيں تو جب کام غلط ھونے شروع ھوتے ھيں تو عام حالات کی نسبت وہ اس کے متعلق بہت برا محسوس کرتیں ھيں۔

معاشرتی تبدیلیاں

ايک بچے کی موجودگی زندگی ميں بہت بڑی تبديلی کا باعث ھو سکتی ھے ایک نومولود بچے کی ضروریات معاشرتی زندگی کی سرگرميوں کو قائم رکھنے ميں مشکلات پیدا کر سکتیں ھيں ۔

ایک نئے بچے کی پیدائش والدين پر دباؤ ڈال سکتی ھے اور اکثر ان کی ازدواجی زندگی ميں ایک جوڑے کی حيثيت سے وقت گزارنے ميں مشکل پيدا کر سکتی ھے

نئے بچے کی وجہ سے بہت سے لوگ زیادہ عرصہ اپنے خاندان کے ساتھ اکٹھے وقت نہيں گزار سکتے بہت سے نئے والدين بالکل تنہا ھو سکتے ھيں اور نئ ماؤں کو زیادہ مدد گار لوگ نھيں ملتے خاص طور پر ايسی ماؤں کے ليۓ یہ وقت مشکل ھو سکتا ھے جنہيں اپنی والدہ کی مدد حاصل نہيں ھوتی حتی کہ ایسی مائيں جن کی فيملی اور دوست بھی ھو تے ھيں عملی مدد حاصل کرنے ميں مشکل محسوس کرتيں ھيں۔

اخبارات،میگزين اور ٹيلی ويژن کے پروگرام ھميں یہ بتاتے ھيں کہ بچے کی پرورش کرنا ایک حيران کن تجربہ ھے ليکن کبھی بھی پرورش کے مشکل مراحل کے متعلق نہيں بتاتے ھيں مواصلات اور دوسرے لوگوں سے ماں کے بارے ميں سن کر عورتيں بعض اوقات یہ محسوس کرتیں ھيں کہ اس کے ليۓ ایک صحيح وقت ھونا چاھيۓ۔

وہ سوچتيں ھيں کہ ھر` عورت قدرتی طور پرآسانی سے بچہ پیدا کرنے کے ليۓ تیار ھوتی ھے اور فوری طور پر بالکل صحيح اور مکمل ماں بن سکتی ھے مگر یہ سوچ ان کے ليۓ مدد حاصل کرنے ميں بہت مشکل پیدا کر ديتی ھے۔

ليکن ماں بننے کے متعلق ایسی فرضی کہانیاں بہت سے لوگوں کو سچائی سے بہت دور رکھتیں ھيں۔

بچے کی پیدائش بہت پريشان کن بھی ھو سکتی ھے اور ماں بننا ایک ايسا نیا کردار ھے جو ھميں سیکھنا پڑتا ھے جس طرح ھم زندگی کے دوسرے کردار سیکھتے ھيں ۔

آجکل کی عورتيں جب مائيں بنتیں ھيں تو ان کی ضرویات ماضی میں بننے والی ماؤں کی نسبت زیادہ ھوتیں ھيں وہ گھر سے باھر کام کے ليۓ جاسکتیں ھيں اور اپنے دوستوں کے ساتھ گزرے وقت کو یاد کر کے اکیلا پن محسوس کرتیں ھيں ليکن اگر وہ واپس کام پر جانے کا فيصلہ کرتیں ھيں تونئے بچے کو سنبھالنا اور کام کرنا ان کے ليۓ دباؤ کا باعث بن سکتا ھے۔

زندگی کے پريشان کن لمحات

ھم یہ بھی جانتے ھيں کہ جو عورتيں ماضی ميں یا موجودہ زندگی ميں تلخ لمحات ميں سے گزر چکی ھوں وہ بچہ پیدا ھونے کے بعد پوسٹ نيٹل ڈپريشن کا شکار زيادہ ھوتیں ھيں مثال کے طور پر پچھلے بچے کا ضياع،اپنی ماں کی موت مالی مشکلات گھریلوں مسائل، آخر کار یہ بات یاد رکھنے کے ليۓ اھم ھے کہ دباؤ کی سب سے بڑی وجہ تبديلی ھے اور کوئی بھی چيز آپ کی زندگی ميں اتنی تبدیلی نہيں لا سکتی ھے جتنا کہ ايک نیا بچہ لا سکتا ھے۔

کیاچيز مدد گارھو سکتی ھے؟

یاد رکھيں یہاں مدد موجود ھے اور بہت سے ايسے اقدامات بھی ھيں جو آپ اپنی مدد آپ کے ليۓ کر سکتیں ھيں۔

پہلااقدام

  • یہ مان ليں کہ کچھ نہ کچھ غلط ھے
  • آپ جو محسوس کرتیں ھيں اس کے متعلق اپنے شوھر دوست یا خاندان کے کسی بھی فرد سے بات کريں
  • ياد رکھيں کہ آپ بہتر ھو جائيں گيں
  • اپنے معالج يا ڈاکٹر سے بھی مشورہ کريں

دوسرااقدام

جیسا کہ ھم دیکھ چکے ھيں کہ پوسٹ نيٹل ڈپريشن کی بہت سی وجوھات ھيں اور بہت سے مختلف اقدامات مدد کر سکتے ھيں۔

کيادوائی مدد کرسکتی ھے؟

اگر آپ اپنا دودھ پلانے کے دوران معالج کی مدد نہيں لے سکتيں تو انٹی ڈپريسنٹ(سکون آور ادویات) بھی مدد گار ھو سکتیں ھيں اگر آپ ڈپريشن کی وجہ سے ھونے والی جسمانی علامات کا شکار ھيں مثلاّ

کم بھوک لگنا نيند کا کم ھو جانا اور طاقت میں کمی محسوس کرنا تو آپ اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کريں جو اس صورت حال میں خاص طور پر مدد گار ثابت ھو سکتےھيں۔

اگر آپ کے معالج انٹی ڈپريسنٹ نسخہ تجويز کريں تو یاد رکھيں یہ ادویات کم از کم دو ہفتوں میں اثر دکھاتی ھيں یہ یقين کرليں کہ اس قسم کا علاج عادت نہيں بنتی اگرچہ یہ بہت اھم ھے کہ کوئی بھی دوائی اچانک بند نہيں کی جاتی اور یہ بھی اھم ھے کہ مکمل کورس کیاجاۓ جو کم از کم چھ ماہ کا ھوتا ھے اگر علاج مدد گار ثابت ھوتا نظر آۓ تو آپ کے معالج آپ سے ان تمام مسائل کے بارے ميں بات کريں گے۔

کیامجھے سائیڈايفيکٹس کا بھی تجربہ کرنا ھوگا؟

کچھ لوگ تھکاوٹ اور منہ کے خشک ھونے جيسے سائیڈايفيکٹس کا بھی سامنا کرتے ھيں ليکن یہ علامات چند ہفتوں ميں ختم ھو جانی چاھيۓ اس دوران ميٹھی گولی کا چوسنا اور بہت زیادہ پانی پينا مددگار ثابت ھو سکتا ھے ۔ ھو سکتا ھے یہ سائیڈايفيکٹس آپ کو ناخوشگوار محسوس ھوں ليکن اس کے فوائد زیادہ ھيں جيسا کہ سرجری بولنے سے متعلقہ بہتر کام کرۓگی دوبارہ آپ کے معالج اس کے بارے میں آپ سے بات کريں گيں۔

تھراپی کے بارے ميں کیا خیال ھے ؟

تحقيق سے ثابت ھوا ھے کہ" صلاح" پوسٹ نیٹل ڈپريشن کے ليۓ ايک پر اثر علاج ھے آپ کی ھیلتھ وزیٹر وہ بہترين شخصيت ھيں جس سے آپ بات کر سکتيں ھيں اور ھو سکتا ھے وہ مشورہ دينے کی بہترين صلاحیت کی حامل ھوں يا آپ کی ھیلتھ وزیٹر آپ کو کسی مقامی سرجری میں کسی صلاح کار ، نفسیاتی تھراپسٹ یا دماغی معالج کے پاس بھيج سکتیں ھيں آپ کی معالج ایسے مسائل کو جن کا تعلق آپ کے ماضی سے ھے یا جو آپ موجودہ لمحات ميں سوچ دھيں ھيں کو اجاگر کر سکتیں ھيں۔

ميں اپنی مدد آپ کس طرح کر سکتی ھوں ؟

یہاں بہت سے عملی اقدامات ھيں جن کے کرنے سے آپ بہتر محسوس کرسکتیں ھيں۔

  • اپنے احساسات کے بارے ميں بات کرنا بہت اھم ھے اپنے شوھر سے اس کے متعلق بات کرنا مشکل ھو سکتا ھے لیکن اگر آپ ھميشہ اپنے احساسات کو خود تک محدود رکھيں گيں تو آپ کا شوھر خود کو آپ سے کٹا ھوا محسوس کر سکتا ھےخاص طور پر یہ اس وقت سچ ھو سکتا ھے جب آپ خود ميں سيکس محسوس نہيں کرتيں یہ اکثر اس وقت ھوتا ھے جب عورتيں پريشان ھوتيں ھيں۔
  • کوشش کريں کہ سارا دن اکيلی نہ رھيں اپنے دوستوں کو ديکھنے اور دوسری ماؤں سے ملنے کی کوشش کريں آپ کےمعالج اس قابل ھونگے کہ آپ کو مقامی گروپس کے متعلق بتائيں جہاں آپ دوسری عورتوں سے مل سکتيں ھيں بعض اوقات ایسے مدد گار گروپس بھی ھوتے ھيں جو کہ بہت مددگار ثابت ھو سکتے ھيں
  • یہاں بہت سی رضاکارانہ تنظيميں بھی ھيں جن کے ممبرز عملی اور جزباتی مدد کر سکتے ھيں( ان کے اڈريس اس کتابچے کے آخر ميں ديکھيں)۔
  • ھرعملی مدد حاصل کريں مدد مانگنے يا قبول کرنے ميں شرم یا ہچکچاہٹ محسوس نہ کريں ايسی عورتيں جو شديد قسم کے ڈپريشن کا شکار ھوں انہيں بچے کی ديکھ بھال اور گھر کے کام کاج کے سلسلے ميں مدد کی ضرورت ھو سکتی ھے۔
  • مکمل گھريلو خاتون بننے کی کوشش نہ کريں یہ اھم نہيں ھے کہ گھر صاف ستھرا ھے کہ نہيں۔ آپ اپنے کام کو جتنا کم کرسکتیں ھيں۔
  • آپ جتنا آرام کرسکتيں ھيں کريں کیونکہ تھکاوٹ ڈپريشن کو مزيد خطرناک بنا ديتی ھے یقين کرليں کہ آپ صحت بخش غذا کھا رھيں ھيں۔
  • اپنے ليۓ وقت نکالنے کی کوشش کريں آپ اس پر یقين نہيں کريں گيں ليکن آپ کے ليۓ نہانا ، تيز چلنا، اور حتی کہ صرف آدھے گھنٹے کے ليۓ کسی ميگزين کا مطالعہ کرنا آپ کو پر سکون کرسکتا ھے۔
  • ورزش خاص طور پر مدد گار ھو سکتی ھے۔

ميں اسکے علاوہ اور کیا کرسکتی ھوں؟

ان تبدیلیوں کر لانا مشکل ھو سکتا ھے کیونکہ ڈپريشن ھماری سوچ اور ھمارے احساسات پر بھی اثرانداز ھوتی ھے اور اسکے نتيجے ميں ھم اس طرح کا رویہ اختیار کرتے ھيں مندرجہ ذیل اقدامات بھی ھماری پریشان کن سوچوں،احساسات اور رویوں پر قابو بانے ميں مدد کرسکتے ھيں۔

1۔ روزانہ کی منصوبہ بندی کرنا

جب عورتيں دباؤ کا شکار ھوتيں ھيں تو وہ کچھ بھی کرنا پسند نہيں کرتيں ھيں اور ايسی عورتيں یہ فيصلہ کرنے ميں مشکل محسوس کرتيں ھيں کہ روزانہ کیا کريں اور آخر کار اس وجہ سے بہت کم کر پاتيں ھيں۔

اگر یہ آپ کے ليۓ مسئلہ ھو تو آپ اپنے تمام کام جو کرنا چاہتیں ھيں ان کی فہرست بنا کراس مسئلے سے نمٹ سکتیں ھيں ان کاموں کو کرنے کے ليۓ عملی فہرست بنائيں پہل سب سے آسان کام سے کريں اور بہت بڑا کام کرنے کا مقصد نہ بنائيں اپنی عملی فہرست کے مطابق کام شروع کريں اور جو کام آپ کر چکيں اس پر نشان لگاتیں جائيں اس روز کے اختتام پر آپ یہ ديکھنے کے قابل ھو جائيں گی اور ديکھيں گی کہ آپ نے کیا حاصل کیا جسمانی ورزش اور سرگرمی یقينّا آپ کے ليۓ اپنا آپ سنبھالنےميں مدد کر سکتی ھے روزانہ اپنے منصوبے کے مطابق کچھ زیادہ کرنے کی کوشش کريں دوستوں کے ساتھ گھليں مليں،خاندان اور پڑوسی بھی آپ کی مدد کر سکتے ھیں تنظیميں جیسا کہ "فیملی لنک" آپ کے ليۓ دوبارہ آپس ميں گھلنے ملنے ميں مدد فراھم کر سکتیں ھيں(اس حصے ميں ديکھيں جس ميں کہا گیا ھے کہ میں مزید مدد کیسے حاصل کروں؟)۔

یاد رکھيں اپنے مقاصد بہت اونچے نہ بنائيں ھو سکتا ھے جو آپ کو پہلے بہت آسانا لگ رھاتھا اب بہت مشکل نظر آرھا ھو شروع وھاں سے کريں جہاں اب آپ ھيں اور وھاں تک کريں جہاں آپ تھے جب بہتر تھے۔

2۔ کامیابیاں اور خوشی

جب عورتيں دباؤ کا شکار ھوتيں ھيں تو وہ اکثر بھول جاتيں ھيں کہ انہوں نے کیا حاصل کیا اور کیا لطف اٹھایا بہت سی عورتيں بہت سی ایسی چیزوں کو ساتھ کے کر چلتيں ھيں جن کے بارے ميں وہ پہلے سے جانتی ھيں۔

جب آپ اپنے عملی منصوبے ميں دن کے تمام واقعات لکھ چکيں تو آپ ان سرگرميوں کے ساتھ جو آپ کو خوشی ديں پی (P) لکھ ديں اور جہاں آپ محسوس کريں کہ آپ نے کچھ حاصل کیا ھے اور اچھا کيا ھے تو ان سرگرميوں کے ساتھ اے (A) لکھ ديں۔

بہت زیادہ نیک بننے کی کوشش نہ کريں جو عورتيں دباؤ کا شکار ھوتی ھيں وہ جو کچھ حاصل کرتيں ھيں اسے بہت زیادہ اھميت نہيں ديتيں ھيں آپ ھر وقت اپنا موازنہ اپنے پرانےپن سے کرنے کی کوشش نہ کريں۔ اپنے ليۓدعا کريں کہ آپ زیادہ سے زیادہ منتظم ھونے کے قابل ھوجائیں جب آپ دباؤ کا شکار ھوتيں ھيں تو آپ کے ليۓ کوئی بھی کام چيلنج ھو سکتا ھے اور آپ چاھیں گيں کہ اس کام کی پہچان اور انعام ھونا چاھيۓ پس آپ اپنی روزمرہ زندگی ميں کچھ خوشی کے لمحات لانے کی کوشش کريں اور آپ کایہ اپنا علاج آپ کی مدد کرے گا

3۔ بدلتے ھوۓ احساسات کی اے بی سی

یہ ھو سکتا ھے کہ ایک پوسٹ نیٹل ڈپريشن ميں مبتلا عورت کی سوچيں تکلیف دہ ھوں جو رویے ميں خرابی کا باعث ھوں کسی بھی پوسٹ نیٹل ڈپريشن ميں مبتلا عورت کے بارے ميں یہ کہنا صحيح ھو گا۔

آپ اس لمحے کے بارے ميں سوچنے کی کوشش کريں جو آپ کو پريشانی يا دباؤ ميں مبتلا کر سکتا ھے آپ کو اس قابل ھونا چاھيۓ کہ آپ اس کے تين حصے بنائيں

اے۔ واقع

بی۔ اس کے متعلق آپ کی سوچ

سی۔ اس کے متعلق آپ کے احساسات

بہت سے لوگ عام طور پر صرف اے اور سی کے متعلق جانتے ھيں آئیں اسکے متعلق ایک مثال ديکھتے ھيں

مثال کے طور پر آپ کا بچہ چیخنا بند نہيں کرتا جبکہ آپ وہ سب کچھ کر چکيں ھيں جس کے متعلق آپ سوچتیں ھيں کہ یہ بچے کو چپ کروانے ميں مدد گار ھوسکتاھے

اے۔ بچہ چيخنا بندنہيں کررھا

بی۔ آپ کی سوچ۔ ميں یہ برداشت نہيں کرسکتی ميں اسے سکون پہنچانا چاھتی ھوں ميں ایک بے کار ماں ھوں مجھے اسے رکھنے کا کوئی حق نہيں ھے

سی۔ آپ کے احساسات۔ پريشان کن۔ مجرم کی طرح

کتنا پريشان کن ھوگا اس ميں کوئی شک نہيں کہ آپ بہت برا محسوس کريں گيں یہ ضروری ھے کہ آپ کو ان اے بی سی تين مراحل کے متعلق پہچان ھو وہ اس ليۓ کیونکہ ھم جو ایک واقع کے متعلق سوچتے ھيں اسے بدل سکتے ھيں اور اسی طرح اس کے متعلق جو ھم محسوس کرتے ھيں اسے بھی بدل سکتے ھيں۔

4۔ توازن

توازن کوشش کے ليۓ کارآمد طريق کار ھے جب آپ ایک منفی، تنقیدی سوچ رکھيں تو آپ اپنے بارے ميں بہت زیادہ مثبت سوچ رکھ کر اسے متوازن کريں مثال کے طور پر

یہ سوچ :" کہ میں ایک اچھی ماں نہيں ھوں" آپ اس کو اس سوچ کے ساتھ متوازن کر سکتيں ھيں کہ میری معالج کہتیں ھيں کہ ميں بہت اچھا کر رھی ھوں اور بچے کی بہت تیزی سے نشوونما ھورھی ھے ۔

یقینّا یہ کرنے کی نسبت کہنا آسان ھے جب آپ اپنی سوچ کو منفی محسوس کريں تو یہ اکثر بہت مشکل ھوتا ھے کہ ان منفی خیالات کو بدلا جاۓ ليکن اسے باربار کرنے سے یہ آسان ھو جاتاھے۔

5۔ دو کالموں والا طريق کار

ایک دوسرا طريق کار جو مدد کر سکتا ھے وہ یہ ھے کہ آپ خود بخود آنے والی اپنی منفی سوچوں کو ایک کالم ميں لکھيں اور ھر ایک کے مخالف کالم ميں ایک زیادہ مثبت اور متوازن سوچ لکھيں۔

اس طرح :

متوازن سوچيں

منفی خودکار سوچيں

ميں بہت اچھا کر رھی ھوں اور یہ گھر کے لیۓ بہتر ھے کہ اسے عام حالات کی نسبت تھوڑا کم صاف رکھا جاۓ

ميں ھر چيز سے نبٹ نہيں سکتی ميرا گھر ایک کباڑ ھے

آپ اس اقدام کو مزید آگے لے جاسکتيں ھيں اور اپنے احساسات ،سوچوں، اور واقعات کے متعلق ایک ڈائری بنا سکتيں ھيں۔یہ نیچے ديئے گۓ کالموں کی صورت ميں ھو سکتی ھے زیادہ متوازن سوچ کو حاصل کرنے کے ليۓ بیان کیے گئے طريقوں کو

استعمال کريں اپنی سوچ ميں غلطيوں کو تلاش کريں جو نیچے بتائی گئیں ھيں

دوسری زیادہ متوازن سوچيں

آپ کے ذھن ميں خیالات

احساس یا جزبہ

واقع

شاید اسکے ذھن ميں کوئی اور بات ھو۔ میں ایک نتيجے پرپہنچی ھوں کہ وہ مجھے پسند نہيں کرتی

وہ مجھے پسند نہيں کرتی۔ کوئی بھی مجھے پسند نہيں کرتا

پريشانی

مثال:

کلینک ميں ایک ماں نے مجھے نظرانداز کيا

6۔ کوشش کريں اور تفصیلات کو یاد رکھيں

تحقیق سے پتا چلا ھے کہ جو کوئی عورت دباؤ کا شکار ھوتی ھے تو وہ گزرے ھوۓ واقعات کے متعلق زیادہ تفصیلات یاد نہيں رکھتی ليکن عام باتيں سوچنے ميں توجہ دیتی ھے جسطرح میں کبھی بھی کسی چيز ميں اچھی نہيں ھوں ۔ کوشش کريں اور خود کو تفصیلات یاد کرنے کے ليۓ تیار کريں اسطرح آپ اچھے وقت اور تجربات کو یاد کرسکتيں ھيں روزانہ کی ڈائری اس کام ميں آپ کی مدد کر سکتی ھے اپنے اچھے پہلوؤں اور اچھے انعامات کی لسٹ بنائيں جيسے "ميں ھميشہ صحيح وقت پر ھوتی ھوں" "ميں نے منگل والے دن اپنے دوست کی مدد کی" "پچھلے ھفتے ميرے شوھر نے میرے کام کی تعريف کی"۔

مختصراّ

روزانہ لکھنے والے منصوبے ميں اپنی خوشیاں اور انعامات کے متعلق لکھيں اور خودبخود آنے والی سوچوں اور بہت متوازن سوچوں کی ڈائری آپ کی مددکر سکتی ھے ان سوچوں کے خلاف جو دباؤ اور پريشان کن حالات ميں آپ کے ساتھ رھتيں ھيں۔

7۔ مشکل مسائل کو حل کريں

بعض اوقات بہت پیچيدہ اور مشکل کام جو ھم کررھے ھوتے ھيں ان ميں خود کو بے بس محسوس کرتے ھيں ایک طريقہ کار یہ ھے کہ ایک کام کو مکمل کرنے کے ليۓ جتنے بھی مراحل ھو سکتے ھیں ان کو لکھ ليں اور پھر ایک وقت ميں ایک کو مکمل کريں۔

حتی کہ چھوٹے چھوٹے مسائل کو حل کرنا بھی بہت مشکل محسوس ھوتا ھے جب آپ دباؤ کا شکار ھوتيں ھيں۔ اگر آپ کو کسی مشکل مسئلےکا سامنا ھے تو کوشش کريں ماضی میں ديکھنے کی جب آپ نے کامیاب طریقے سے اسی طرح کے مسئلے کو حل کیا ھو اور پھر اس طريقے کو استعمال کريں۔

اور اپنی دوست سے پوچھيں کہ وہ ایسے مسئلے ميں کیا کريں گيں اپنی تمام ممکنہ صورتوں کو لکھيں چاھے ان میں سے کوئی ایک آپ کو احمقانہ بھی لگے جتنا تخلیقی ھو سکتيں ھيں ھو جائيں اس کام کو کرنے کے ليۓ جتنے ممکنہ حل پیدا کرسکتيں ھيں کريں تو ممکن ھے کہ آپ ان ميں سے کوئی ایک ایسا حل تلاش کرليں جو آپ کے ليۓ کارآمد ھو تمام تائيدومخالفت کو سوچنے کے بعد آپ ان ميں سے جو بہترين حل محسوس کريں اسکا انتخاب کرليں۔

8۔ لمبے عرصے کے عقا‏ئد

بعض اوقات لوگوں کے اپنے بارے ميں بہت منفی خیالات ھوتے ھيں جو کہ خود کے ليۓ بہت تنقیدی ھوتے ھيں مثال کے طور پر "ميں بہت چالاک نہيں ھوں" "ميں بہت محبت کیے جانےکے قابل نہيں ھوں "یہ عقائد ھمارے ماضی کے تجربات سے اخز ھوتے ھيں اور شاید آج سچ ثابت نہيں ھوتے اس خود پر تنقید سے مقابلے کی کوشش کريں اپنے آپ کو نيچے مت گرائيں اور اس قسم کے ثبوت تلاش کريں جو ان عقائد کی نفی کرتے ھوں۔

9۔ ميں مزيد مدد کہاں سے حاصل کرسکتی ھوں؟

ھميں امید ھے کہ آپ اس کتابچے ميں دی گئی تراکيب اور نصيحتوں پر عمل کريں گيں اور یہ پوسٹ نیٹل ڈپريشن پر قابو پانے ميں آپ کی مدد کريں گيں۔

تاھم اگر آپ کو مزید مدد کی ضرورت پيش آۓ تو اپنے فیملی ڈاکٹر یا اپنی معالج کے پاس جائيں جس کے متعلق ھم پہلے بتا چکے ھيں کچھ دوسرے علاج بھی ھيں جو کہ آپ کی مدد کرسکتے ھيں۔

اگر آپ اپنے آپ کو اتنا زیادہ پريشان محسوس کريں کہ آپ اپنے بچے کی وجہ سے خود کو نقصان پہنچانے کا سوچنے لگيں تو ایسی صورت ميں جتنی جلدی ممکن ھو سکے اپنے ڈاکٹر سے ملیں یاد رکھيں کہ پوسٹ نیٹل ڈپريشن علاج بہت جلدی ردعمل ظاھر کرتا ھے اور زیادہ تر عورتيں جلدی صحت یاب ھو جاتی ھيں۔

کیایہاں رھنمائی اور مدد کے دوسرے ذرائع موجود ھيں؟

مندرجہ ذیل تنظيميں اور ھیلپ لائنز بھی مدد گار ثابت ھو سکتی ھيں

ایسوسی ایشن فور پوسٹ نیٹل ایلنيس ۔ مندرجہ ذیل ایسوسی ایشنز ان عورتوں کے ليۓ ھيں جو اپنے بچے کی پیدائش کے دوران دباؤ کا شکار ھو جاتی ھيں :

ايسوسی ايشن فور پوسٹ۔ نیٹل ايلنيس

25 جيرڈن پليس

فل ھام

لندن، ایس ای6 1بی ای

ٹیلیفون 3860868-0207

مائنڈ ۔ دی مینٹل ھيلتھ چیريٹی

براڈ وے 19-15

لندن

ای15 4بی کیو

ٹیلیفون 5192122-0208

ای میل :uk.org.contact@mind

ری ليٹ۔ یہ ادارہ ازدواجی یا جزباتی مسائل کو حل کرنے ميں مدد فراھم کرتا ھے

ری لیٹ،

ھربرٹ گرے کالج

لٹل چرچ سٹريٹ

رگ باۓ

ور وک شایر

سی وی21 5اےپی

ٹیلیفون : 4561310- 0845

www.relate.org.uk

سماریٹینز:

لنک لائن (لوکل ریٹ) ٹیلیفون : 909090-0345

یہ ادارہ ھر کسی کے ليۓ مسائل ميں رازداں مدد فراھم کرتا ھے

ای میل :

jo@samaritans.org

فیملی لنک :

نارتھ ايسٹ انگلينڈ ميں "بی فرينڈينگ سکيم" جوان بچوں والی فیمليز کے ليۓمدد اور عملی اقدام کرتی ھے

ٹیلیفون : 3741 232 0191

لوکل اورگنائزيشن ۔ آپ کی فيملی ڈاکٹر یا لوکل جی پی سرجری اس قابل ھوتيں ھيں کہ آپ کو "لوکل اورگنائزيشن" جو مدد کرنے کے قابل ھوتیں ھيں ان کےفون نمبر دے سکيں

مزید معلومات

اپنے ڈاکٹر سے پوچھيں کہ کیا بےبی مساج مہیا ھو سکتا ھے جو ماں اور بچے کےليۓ کافی آرام دہ ثابت ھوتا ھے

مندرجہ ذیل کچھ کتابيں ھيں جو آپ خريد سکتے ھيں یا اپنی لوکل لائبريری سے ادھار لے سکتے ھيں جو رشتہ دار اور دوست مدد کرنا چاھتے ھيں وہ بھی یہ کارآمد کتابيں خرید سکتے ھيں

Cara Aike (2000). Surviving Post Natal Depression. Jessica Kingsley Publishers.

کیراایک(2000)۔ سروائونگ پوسٹ نیٹل ڈپريشن ۔جیسیکاکنگسلر پبلیشرز

David Burns (1999). Feeling Good, The New Mood Therapy. Penguin. (2nd Edition)

ڈيوڈ برنز(1999)۔ فیلنگ گڈ، دی نیو موڈ تھراپی۔پینگون۔(سیکنڈ اڈيشن)

Paul Gilbert (1997) Overcomming Depression. A self help guide using cognitive behavioural techniques. London, Robinson.

پاؤل گلبرٹ (1997) اوورکمنگ ڈپريشن ۔ اےسیلف ھیلپ گائیڈ یوزنگ کوگنیٹیو بیحیویرٹیکنیکس۔ لندن، روبینسن۔

Kathy Nairne and Gerrilyn Smith (1994). Dealing with Depression. The Women’s Press.

کیتھی نیرن اينڈ گیريلائن سمتھ (1994)۔ ڈیلنگ ويد ڈپريشن۔ دی ويمنز پريس

Dorothy Rowe (1993). Depression: The Way Out of Your Prison. Routledge.

ڈوروتھی روو (1993)۔ ڈپريشن :دی وے آؤٹ آف یور پرائزن۔ روٹليج۔

Christine Padesky and Dennis Greenberger. (1995) Mind over mood. London: Guildford Press.

کريسٹن پیڈیسکی اینڈ ڈینس گرين برگر۔ (1995) مائنڈ اوورموڈ ۔ لندن: گیلڈ فورڈ پريس

This document was provided by Newcastle, North Tyneside and Northumberland Mental Health NHS Trust and written by Lorna Cameron and Lesley Maunder. www.nnt.nhs.uk/mh/